شہروں کے ریٹ میں فرق کیوں ہوتا ہے؟
دھات کی عالمی قیمت ہر جگہ ایک ہی لمحے میں ایک جیسی ہوتی ہے — سونا ایک ہی عالمی منڈی میں ڈالر فی اونس کے حساب سے بکتا ہے۔ جو چیز بدلتی ہے وہ یہ ہے کہ وہ سونا کسی خاص شہر کی دکان تک پہنچانے پر کتنا خرچ آیا۔
- بندرگاہ سے فاصلہ۔ کراچی داخلی بندرگاہ ہے، اس لیے وہاں کا ریٹ ملک کا فرش سمجھا جاتا ہے۔ ہر کلومیٹر اندرونِ ملک محفوظ ٹرانسپورٹ اور انشورنس کا خرچ بڑھاتا ہے۔
- دکانوں کی تعداد۔ جہاں سینکڑوں تاجر ایک ہی بازار میں مقابلہ کرتے ہیں، وہاں مارجن خود بخود کم ہو جاتا ہے۔
- اسٹاک رکھنے کی لاگت۔ سونا گودام میں رکھنا مہنگا اور خطرناک ہے۔
- مقامی طلب۔ شادی کے موسم میں ریٹ اور بنوائی دونوں سخت ہو جاتے ہیں۔
اس وقت سب سے سستا شہر کراچی اور سب سے مہنگا بنوں ہے۔ دونوں کے درمیان فرق 210 روپے فی تولہ ہے — یعنی دھات کی قیمت کا صرف 0.04 فیصد۔
اتنے معمولی فرق کے لیے دوسرے شہر جانا عموماً فائدے کا سودا نہیں۔ کرایہ، وقت اور سونا یا نقدی ساتھ لے جانے کا خطرہ ملا کر دیکھیں تو بچت ختم ہو جاتی ہے۔ بنوائی اور ضیاع کی شرح پر بات کرنا اس سے کہیں زیادہ فائدہ دیتا ہے۔
خریدنے سے پہلے کیا دیکھیں
- قیراط پہلے، قیمت بعد میں۔ 916 کا مطلب 22 قیراط، 875 کا 21 قیراط، 750 کا 18 قیراط۔
- دھات کا ریٹ اور بنوائی الگ الگ پوچھیں۔ ایک ہی ریٹ بتانے والی دو دکانوں کا بل بنوائی کی وجہ سے کافی مختلف ہو سکتا ہے۔
- ضیاع کی شرح ضرور پوچھیں۔ کم بنوائی اور زیادہ ضیاع اکثر مہنگا سودا ہوتا ہے۔
- اپنے سامنے تولوائیں اور وزن، قیراط اور لاگو ریٹ رسید پر لکھوائیں۔
- سرمایہ کاری کے لیے سکے یا بار بہتر ہیں — ان پر بنوائی نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے۔