آج پاکستان میں سونے کی قیمت
آج پاکستان میں 24 قیراط سونے کا ریٹ 470,303 روپے فی تولہ، 403,216 روپے فی دس گرام اور 40,322 روپے فی گرام ہے۔ 22 قیراط، جس میں زیادہ تر زیورات بنتے ہیں، 431,111 روپے فی تولہ ہے۔
سونے کا ریٹ کیسے طے ہوتا ہے؟
سونے کی قیمت کوئی ایک ادارہ طے نہیں کرتا۔ عالمی قیمت لندن کی اوور دی کاؤنٹر مارکیٹ اور نیویارک کے کومیکس فیوچرز میں ہر لمحے کی تجارت سے بنتی ہے اور ڈالر فی ٹرائے اونس میں بتائی جاتی ہے۔ ایک ٹرائے اونس 31.1035 گرام کا ہوتا ہے۔
یہی قیمت پاکستان پہنچنے تک تین مرحلوں سے گزرتی ہے:
- روپے میں تبدیلی۔ ڈالر مہنگا ہو تو سونا مقامی طور پر مہنگا ہو جاتا ہے، چاہے عالمی قیمت میں کوئی تبدیلی نہ ہوئی ہو۔ اوپن مارکیٹ کا ڈالر انٹربینک سے اوپر رہتا ہے، اور درآمد کنندہ اسی پر خریدتا ہے۔
- درآمدی لاگت۔ ڈیوٹی، مال برداری، انشورنس، ریفائننگ اور تھوک ڈیلر کا مارجن — یہ سب مل کر ملکی پریمیم بناتے ہیں۔
- مقامی مارجن۔ ہر شہر میں ٹرانسپورٹ، حفاظتی انتظام اور دکانوں کے درمیان مقابلے کے مطابق ایک چھوٹا سا فرق مزید شامل ہوتا ہے۔
آل پاکستان صرافہ جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن روزانہ جو ریٹ جاری کرتی ہے، وہ اسی حساب کا نتیجہ ہوتا ہے۔ اسی لیے مقامی ریٹ عالمی قیمت کے ساتھ ساتھ چلتا ہے مگر اس کے برابر کبھی نہیں ہوتا۔
ایک تولہ کتنے گرام کا ہوتا ہے؟
ایک تولہ 11.6638 گرام کا ہوتا ہے۔ بارہ گرام والی بات غلط ہے اور اس کی وجہ ایک سادہ سی الجھن ہے: ایک تولے میں بارہ ماشے ہوتے ہیں، اور وہی "بارہ" لوگ گرام سمجھ بیٹھے۔ فرق 0.3362 گرام یعنی تقریباً 2.9 فیصد بنتا ہے۔
آج کے ریٹ پر یہ فرق ایک تولے پر 13,556 روپے اور دس تولے پر 135,561 روپے بنتا ہے۔ یہ رقم نظر انداز کرنے والی نہیں۔
ایک اور غلطی جو کئی ویب سائٹس پر ملتی ہے: کچھ ڈیٹا فراہم کنندہ "پاکستانی تولہ" 12.48 گرام کا بتاتے ہیں۔ یہ وزن پاکستان کی کسی صرافہ مارکیٹ میں استعمال نہیں ہوتا، اور اسے استعمال کرنے سے ریٹ تقریباً سات فیصد زیادہ دکھائی دیتا ہے۔ اس سائٹ پر ہر تولے کا حساب 11.6638 گرام سے ہوتا ہے۔
خریدنے سے پہلے یہ چار اعداد ضرور پوچھیں
- دھات کا ریٹ — اسی قیراط کا جو آپ خرید رہے ہیں، 24 قیراط کا سرخی والا نہیں۔
- بنوائی (مزدوری) — فی گرام ہے یا فیصد میں؟ فیصد والی بنوائی سونا مہنگا ہونے پر خود بخود بڑھ جاتی ہے۔
- ضیاع کی شرح — کم بنوائی اور زیادہ ضیاع والا سودا اکثر مہنگا پڑتا ہے۔
- ٹیکس — کس رقم پر لگ رہا ہے، یہ بھی لکھوا لیں۔
یہ چاروں اعداد الگ الگ مل جائیں تو دو دکانوں کا موازنہ چند سیکنڈ کا کام ہے۔ جو دکاندار ایک مجموعی قیمت بتا کر تفصیل نہ دے، وہ درحقیقت اپنی قیمت کے بارے میں کچھ بتا رہا ہے۔
سرمایہ کاری کے لیے کیا خریدیں؟
اگر مقصد سرمایہ کاری ہے تو 24 قیراط کے سکے یا بار بہتر ہیں، کیونکہ ان پر بنوائی نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے اور بیچتے وقت آپ کو دھات کی تقریباً پوری قیمت ملتی ہے۔ زیورات پر جو 10 سے 25 فیصد بنوائی لگتی ہے، وہ واپس نہیں ملتی — یہی سب سے بڑی وجہ ہے کہ زیورات سرمایہ کاری کے طور پر کمزور رہتے ہیں۔
اگر زیور پہننے کے لیے چاہیے تو 22 قیراط ٹھیک ہے۔ خالص سونا اتنا نرم ہے کہ روزمرہ استعمال میں شکل بگڑ جاتی ہے اور نگینہ اپنی جگہ پر نہیں ٹکتا۔ 8.4 فیصد دوسری دھاتیں اسی لیے ملائی جاتی ہیں — یہ ملاوٹ نہیں، ضرورت ہے۔