سونے کی قیمت کیسے نکالی جاتی ہے؟
حساب چار قدموں کا ہے، اور ہر قدم الگ سے پوچھنے کے قابل ہے۔ جو دکاندار چاروں اعداد الگ الگ بتا دے، اس سے موازنہ کرنا آسان ہے؛ جو ایک مجموعی قیمت بتائے، اس سے موازنہ ممکن ہی نہیں۔
- دھات کی قیمت = وزن (گرام میں) × اُس قیراط کا فی گرام ریٹ۔
- ضیاع = وزن پر لگنے والی اضافی فیصد، جو بنانے میں ضائع ہونے والے سونے کے لیے لی جاتی ہے۔
- بنوائی = مزدوری اور ڈیزائن کی قیمت، فی گرام یا فیصد میں۔
- ٹیکس = کل رقم پر لاگو۔
مثال کے طور پر: 20 گرام 22 قیراط کا زیور۔ آج 22 قیراط کا فی گرام ریٹ 36,932 روپے ہے، تو دھات کی قیمت 738,648 روپے بنتی ہے۔ اگر بنوائی 500 روپے فی گرام ہو تو اس میں 10,000 روپے کا اضافہ ہوگا — یعنی دھات کی قیمت کا تقریباً 1.4 فیصد۔
وزن کے یونٹ
| یونٹ | گرام میں | کہاں استعمال ہوتا ہے |
|---|---|---|
| ایک تولہ | 11.6638 گرام | پاکستان — عام ریٹیل یونٹ |
| ایک ماشہ | 0.9720 گرام | تولے کا بارہواں حصہ |
| ایک رتی | 0.1215 گرام | ماشے کا آٹھواں حصہ |
| دس گرام | 10 گرام | بھارت — عام ریٹیل یونٹ |
| ایک ٹرائے اونس | 31.1035 گرام | عالمی منڈی |
| ایک کلوگرام | 1000 گرام | تھوک اور بار |
تولہ 11.6638 گرام کا ہوتا ہے، بارہ کا نہیں۔ بارہ والی بات اس لیے مشہور ہوئی کہ ایک تولے میں بارہ ماشے ہوتے ہیں۔ فرق تقریباً 2.9 فیصد بنتا ہے — اور یہ کیلکولیٹر ہمیشہ درست وزن استعمال کرتا ہے۔
قیراط کے حساب سے آج کے ریٹ
| قیراط | ہال مارک | خالص پن | فی گرام | فی تولہ |
|---|---|---|---|---|
| 24 قیراط | 999.9 | 100.00% | 40,290 روپے | 469,933 روپے |
| 22 قیراط | 916 | 91.67% | 36,932 روپے | 430,772 روپے |
| 21 قیراط | 875 | 87.50% | 35,254 روپے | 411,192 روپے |
| 20 قیراط | 833 | 83.33% | 33,575 روپے | 391,611 روپے |
| 18 قیراط | 750 | 75.00% | 30,217 روپے | 352,450 روپے |
بیچتے وقت کیا ملے گا؟
یہ کیلکولیٹر دھات کی قیمت بتاتا ہے۔ بیچتے وقت دکاندار وزن میں کٹوتی کرتا ہے — روایتی رتی ماشہ کٹ کے تحت ہر ماشے پر ایک رتی، یعنی کم از کم 12.5 فیصد۔
مثلاً 5 تولہ 22 قیراط زیور کی دھاتی قیمت 2,153,861 روپے ہے، مگر 12.5 فیصد کٹوتی کے بعد ملنے والی رقم تقریباً 1,884,629 روپے رہ جاتی ہے۔ اگر زیور میں نگینے یا پالش ہو تو کٹوتی اس سے زیادہ بھی ہو سکتی ہے۔
اسی لیے سرمایہ کاری کے لیے سکے اور بار بہتر ہیں: ان پر نہ بنوائی لگتی ہے، نہ کٹ۔